اسماء المہدی علیہ السلام — Page 471
اسماء المهدی صفحہ 471 نذیر دنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ ( تذکره طبع چہارم صفحه 81) انبیاء علیہم السلام کی صفات میں سے دوصفات نذیر اور بشیر بھی ہیں۔ان دونوں صفات کا تعلق دو قسم کے لوگوں سے ہوتا ہے۔نذیر کا منکروں اور مخالفوں سے جو اپنی شوخی اور شرارت سے باز نہیں آتے۔اور بشیر کا ان سے جو اس کے نیچے اور حقیقی پیروکار ہوتے ہیں۔بشیر ونذیر دونوں صفات کا ظہور مستقبل میں اس کے دوستوں اور دشمنوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔اور اس مامور کے اس نام کے ذریعہ قبل از وقت بتا دیا جاتا ہے کہ اب اسی دنیا میں اس کے ماننے والوں کی نصرت و تائید ہوگی۔اور تکفیر و توہین اور مخالفت و شرارت کرنے والوں کی ذلت ورسوائی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ دونوں نام دے کر آپ سے تعلق محبت و اخوت رکھنے والوں اور منکروں اور مخالفوں کے انجام کا اعلان کیا ہے۔علاوہ ازیں نذیر نام کے ذریعہ اس زمانہ کی مذہبی حالت کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت نبی کریم ﷺ کی نذیر صفت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: