اسماء المہدی علیہ السلام — Page 466
اسماء المهدی س: صفحہ 466 جبکہ دین کمال کو پہنچ چکا ہے اور نعمت پوری ہو چکی ہے تو پھر کسی مجد د یا نبی کی کیا ضرورت ہے؟ ج ” ہم کب کہتے ہیں کہ مجدد اور محدث دنیا میں آکر دین میں سے کچھ کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں۔بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لئے مجد داور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں۔نہ معلوم کہ بے چارہ معترض نے کہاں سے اور کس سے سُن لیا کہ مسجد داور روحانی خلیفے دنیا میں آکر دین کی کچھ ترمیم و تنسیخ کرتے ہیں۔نہیں، وہ دین کو منسوخ کرنے نہیں آتے بلکہ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ دین کی تکمیل اس بات کو مستلزم نہیں جو اس کی مناسب حفاظت سے بگھی دستبردار ہو جائے۔مثلاً اگر کوئی گھر بنادے اور اس کے تمام کمرے سلیقہ سے تیار کرے اور اس کی تمام ضرورتیں جو عمارت کے متعلق ہیں باحسن وجہ پوری کر دیوے۔اور پھر مدت کے بعد اندھیریاں چلیں اور بارشیں ہوں۔اور اس گھر کے نقش و نگار پر گردوغبار بیٹھ جاوے اور اس کی خوبصورتی چھپ جاوے۔اور پھر اس کا کوئی وارث اس گھر کو صاف اور سفید کرنا چاہے۔مگر اس کو منع کر دیا جاوے کہ گھر تو مکمل ہو چکا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ منع کرنا سراسر حماقت ہے۔افسوس کہ ایسے اعتراضات کرنے والے نہیں سوچتے کہ تکمیل شئے دیگر ہے اور