اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 462 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 462

اسماء المهدی صفحه 462 ج انبیاء بنی اسرائیل ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ صرف مسیح موعود کا نام احادیث میں نبی کر کے پکارا گیا ہے؟ مگر دوسرے تمام خلفاء کو یہ نام نہیں دیا گیا ؟ جبکہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء تھے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تھا اس لئے اگر تمام خلفاء کو نبی کے نام سے پکارا جاتا تو امر ختم نبوت مشتبہ ہوجاتا اور اگر کسی ایک فرد کو بھی نبی کے نام سے نہ پکارا جاتا تو عدم مشابہت کا اعتراض باقی رہ جاتا۔کیونکہ موسیٰ کے خلفاء نبی ہیں۔اس لئے حکمت الہی نے یہ تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو برعایت ختم نبوت بھیجا جائے اور ان کا نام نبی نہ رکھا جائے۔اور یہ مرتبہ ان کو نہ دیا جائے تاختم نبوت پر یہ نشان ہو۔پھر آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود کو نبی کے نام سے پکارا جائے تا خلافت کے امر میں دونوں سلسلوں کی مشابہت ثابت ہو جائے۔اور ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں مسیح موعود کی نبوت ظلمی طور پر ہے کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کا بروز کامل ہونے کی وجہ سے نفس نبی سے مستفیض ہو کر نبی کہلانے کا مستحق ہو گیا ہے۔جیسا کہ ایک وجی میں خدا تعالیٰ نے مجھ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا: يَا أَحْمَدُ جُعِلْتَ مُرْسَلًا۔اے احمد تو مرسل بنایا گیا۔یعنی جیسے کہ تو بروزی رنگ میں احمد کے نام کا مستحق ہوا ہے حالانکہ تیرا نام غلام احمد تھا۔سواسی طرح بروز کے رنگ میں نبی کے نام کا مستحق ہے۔“ صلى الله (روحانی خزائن جلد 20 ،صفحہ 45۔تذکرۃ الشہادتین ) اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل