اسماء المہدی علیہ السلام — Page 460
اسماء المهدی صفحہ 460 نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو۔اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔شریعت کا حامل قیامت تک قرآن شریف ہے۔“ (روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 412 - تجلیات الہیہ ) ہر خواب بین کو نبی نہیں کہہ سکتے یا نبی نہیں کہلا سکتا۔بلکہ کیفیت و کمیت کے لحاظ سے کثرت شرط ہے جیسا کہ حضور علیہ السلام کے مذکورہ بالا حوالہ جات سے ظاہر ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُوْلِ(سورۃ الجن: 28۔27 ) کہ غیب کا جاننے والا وہی ہے۔وہ اپنے غیب پر کسی کو غلبہ نہیں بخشتا مگر ایسے رسول کو جس کو وہ اس کام کے لئے پسند کر لیتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے بعد کسی پر نبی کے لفظ کا اطلاق بھی جائز نہیں جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے ” نبی کے لفظ سے اس زمانہ کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ حاصل کرے اور تجدید دین کے لئے مامور ہو۔یہ نہیں کہ وہ کوئی دوسری شریعت لاوے کیونکہ شریعت آنحضرت ﷺ پر ختم ہے۔اور آنحضرت ﷺ کے بعد کسی پر نبی کے لفظ کا اطلاق بھی جائز نہیں جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اس نے آنحضرت ﷺ کی پیروی سے پایا، نہ