اسماء المہدی علیہ السلام — Page 459
اسماء المهدی صفحہ 459 کے بعد ان معنوں کی رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ امت مکالمات و مخاطبات الہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرور اس پر مطابق آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِہ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اس کو ہم رسول کہیں گے۔“ س:- (روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 208۔ایک غلطی کا ازالہ ) کیا ہر صاحب رویا و کشف یا غیب سے خبر پا کر آئندہ کی خبر دینے والا نبی کے خطاب کا سزاوار ہوگا ؟ ج:- وو اسلام کلام الہی کی صفت کو کبھی معطل نہیں کرتا۔اور اسلام کی رو سے جیسا کہ پہلے زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں سے مکالمہ مخاطبہ کرتا تھا، اب بھی کرتا ہے۔اور ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں میں صرف لفظی نزاع ہے۔اور وہ یہ کہ ہم خدا کے ان کلمات کو جو نبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں، نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں یعنی اس قدر کہ اس کے زمانہ میں اس کی کوئی نظیر نہ ہو، اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں کیونکہ نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے۔“ (روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 189 - 188 - چشمه معرفت ) ” میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی قلعی بکثرت