اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 35 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 35

اسماء المهدی صفحہ 35 متفرق مقامات پر کیا ہے۔چنانچہ جو تعریفیں اسماء و خطابات کی صورت میں کی گئی ہیں، ان کو حضور علیہ السلام کے بیان فرمودہ فلسفہ و حکمت میں اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔بعض لوگ حضرت مہدی معہود علیہ السلام کے کثرت اسماء پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ اعتراض یا تو محض تعصب سے کیا جاتا ہے یا عدم تدبر اور علمی فقدان کا نتیجہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کثرت اسماء، کثرت اوصاف و کمالات پر دلالت کرتا ہے۔خود اُس خدائے واحد و یگانہ کے صفاتی نام ان گنت ہیں۔کہ الْأَسْمَاءُ الحُسْنى (طه:9 - لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمْتُ رَبِّي وَلَوْجِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (الكهف: 110)۔پھر اس کی ان صفات میں سے بعض بظاہر ایک دوسرے کے بالکل متضاد بھی ہیں۔مثلاً وہ مجیبی بھی ہے اور ممیت بھی۔معز بھی ہے اور مذان بھی۔غفور و رحیم بھی ہے اور شدید العذاب بھی۔بایں ہمہ یہ مسلمہ امر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کی کثرت کوئی قابل اعتراض شے نہیں بلکہ یہ اس کی عظمت اور کمال پر دلالت کرتے ہیں۔ایسے ہی صفات باری تعالیٰ کے مظہر اتم ، سید الاولین والآخرین، خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ، احمد مجتبی اللہ کے بھی سینکڑوں نام قرآن و حدیث اور علماء ربانی نے بیان کئے ہیں۔علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عام آدمی کے بھی عمر اور زمانہ کے لحاظ سے نام و مقام بدلتے رہتے ہیں۔مثلاً وہ بیک وقت کسی کا بیٹا ہوگا، کسی کا پوتا، نواسہ، بھتیجا، بھانجا، چچا، ماموں، بھائی وغیرہ۔اور شادی شدہ ہونے کی صورت