اسماء المہدی علیہ السلام — Page 34
اسماء المهدی صفحہ 34 کے بعد ، جن میں آپ کو بہت سی تعریف کے بعد دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ اور سِرَاجًا مُنِيرًا کے خطابات جلیلہ سے نوازا گیا ہے۔فرماتے ہیں کہ یہاں سوال ہوسکتا ہے کہ کیوں ایک امتی کی اس قدر تعریف کی گئی ہے اور اس میں کیا مصلحت اور حکمت ہے۔اس کے دو بزرگ فائدے ذکر کرنے کے بعد حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: جب خداوند تعالیٰ عز اسمہ مصلحت مذکورہ بالا کی غرض سے کسی بندہ کی جس کے ہاتھ پر خلق اللہ کی اصلاح منظور ہے، کچھ تعریف کرے تو اس بندہ پر لازم ہے کہ اس تعریف کو خلق اللہ کی نفع رسانی کی نیت سے اچھی طرح مشتہر کرے اور اس بات سے ہرگز نہ ڈرے کہ عوام الناس کیا کہیں گے۔۔۔در حقیقت یہ تعریفیں عوام الناس کے حق میں موجب بہبودی ہیں اور گو ابتدا میں عوام الناس کو وہ تعریفیں مکروہ اور کچھ افتر ا سا معلوم ہوں لیکن انجام کار خدائے تعالیٰ ان پر حق الا مر کھول دیتا ہے۔اور جب اس ضعیف بندہ کا حق بجانب ہو نا مؤید من اللہ ہو نا عوام پر کھل جاتا ہے۔تو وہ تمام تعریفیں ایسے شخص کی کہ جو میدان جنگ میں کھڑا ہے، ایک فتح عظیم کا موجب ہو جاتی ہیں۔اور ایک عجیب اثر پیدا کر کے خدا کے گم گشتہ بندوں کو اصلی توحید اور تفرید کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔اور اگر تھوڑے دن ہنسی ٹھٹھوں اور ملامتوں کا برداشت کرنا اور ملامت کا موجب ٹھہریں تو خادمِ دین کے لئے عین سعادت اور فخر ہے۔“ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 273 272 - براہین احمدیہ حصہ سوم۔حاشیہ در حاشیہ نمبر 1) حضور اقدس علیہ السلام نے مصلحت مذکورہ کی بناء پر ان تعریفوں کا ذکر