اسماء المہدی علیہ السلام — Page 283
اسماء المهدی صفحہ 283 گے جو جہنم کا نمونہ ہوں گے۔اور پھر فرمایا الَّذِيْنَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاءٍ عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا۔یعنی وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ مسیح موعود کی دعوت اور تبلیغ سے ان کی آنکھیں پردہ میں رہیں گی اور وہ ان کی باتوں کوسن بھی نہیں سکیں گے اور سخت بیزار ہوں گے۔اس لئے عذاب نازل ہوگا۔اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے۔کیونکہ خدا کے نبی اس کی صور ہوتے ہیں یعنی قرنا۔جن کے دلوں میں وہ اپنی آواز پھونکتا ہے۔یہی محاورہ پہلی کتابوں میں بھی آیا ہے کہ خدا کے نبیوں کو خدا کی قرنا قرار دیا گیا ہے یعنی جس طرح قرنا بجانے والا قرنا میں اپنی آواز پھونکتا ہے، اسی طرح خدا ان کے دلوں میں آواز پھونکتا ہے اور یا جوج ماجوج کے قرینہ سے قطعی طور سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ قرنا مسیح موعود ہے۔“ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 86-83۔چشمہ معرفت ) فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوْجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا (الكيف : 100-99) - یعنی جب وعدہ خدا تعالیٰ کا نزدیک آجائے گا تو خدا تعالیٰ اس دیوار کو ریزہ ریزہ کر دے گا جو یا جوج ماجوج کی روک ہے۔اور خدا تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔اور ہم اس دن یعنی یا جوج ماجوج کی سلطنت کے زمانہ میں متفرق فرقوں کو مہلت دیں گے کہ تا ایک دوسرے میں موجزنی کریں۔یعنی ہر ایک فرقہ اپنے مذہب اور دین کو دوسرے پر