اسماء المہدی علیہ السلام — Page 279
اسماء المهدی صفحہ 279 ناداری کو دیکھ کر اپنی طاقت اور حیثیت کے موافق إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے اور صدق اختیار کرتا اور جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے اور ہر قسم کے رجس اور پلیدی سے جو جھوٹ کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے، دُور بھاگتا ہے اور عہد کر لیتا ہے کہ کبھی جھوٹ نہ بولوں گا، نہ جھوٹی گواہی دوں گا اور جذبہ نفسانی کے رنگ میں کوئی جھوٹی کلام نہ کروں گا۔نہ لغوطور پر نہ کسب خیر کے لئے ، نہ دفع شر کے لئے۔یعنی کسی رنگ اور حالت میں بھی جھوٹ کو اختیار نہیں کروں گا۔“ د, (احکام نمبر 13 جلد 9۔17اپریل 1905ء صفحہ 5 کالم3,2) صدیق وہ ہوتا ہے جس کو سچائیوں کا کامل طور پر علم بھی ہوا اور پھر کامل اور طبعی طور پر ان پر قائم بھی ہو۔مثلاً اس کو ان معارف کی حقیقت معلوم ہو کہ وحدانیت باری تعالیٰ کیا شے ہے اور اس کی اطاعت کیا شے۔اور محبت باری عز اسمہ کیا شے اور شرک سے کس مرتبہ اخلاص پر مخلصی حاصل ہوسکتی ہے۔اور عبودیت کی کیا حقیقت ہے اور اخلاص کی حقیقت کیا اور توبہ کی حقیقت کیا۔اور صبر اور توکل اور رضا اورمحویت اور فنا اور صدق اور وفا اور تواضع اور سخا اور ابتہال اور دعا اور عفو اور حیا اور دیانت اور امانت اور اتقاء وغیرہ اخلاق فاضلہ کی کیا کیا حقیقتیں ہیں۔پھر ماسوا اس کے ان صفاتِ فاضلہ پر قائم بھی ہو۔“ (روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 420۔تریاق القلوب) صدیق کا کمال یہ ہے کہ صدق کے خزانہ پر ایسے کامل طور پر قبضہ کرے