اسماء المہدی علیہ السلام — Page 193
اسماء المهدی صفحہ 193 فرقے تو تب ہی ان سے راضی ہوں گے کہ وہ ہر ایک کی بات تسلیم کرے اور کوئی بھی رڈ نہ کرے اور یہ ناممکن ہے۔اگر یہ ہو کہ کوٹھڑی میں بیٹھا رہے گا اور اگر شیعہ اس کے پاس جائے گا تو اندر ہی اندر مخفی طور پر اس کو کہہ دے گا کہ تو سچا ہے۔اور پھر ستی اس کے پاس جائے گا تو اس کو کہہ دے گا کہ تو سچا ہے۔تو پھر تو بجائے حکم ہونے کے وہ پکا منافق ہوا۔۔۔مگر یہ بالکل غلط ہے۔آنے والا موعود حکم واقعی حکم ہوگا۔وہ خود ساختہ اور موضوع باتوں کو ر ڈ کر دے گا اور سچ کو لے گا۔یہی وجہ ہے کہ اس کا نام حکم رکھا گیا ہے۔اسی لئے آثار میں آیا ہے کہ اس پر کفر کا فتویٰ دیا جاوے گا کیونکہ وہ جس فرقہ کی باتوں کو رڈ کرے گا، وہی اس پر کفر کا فتوی دے گا۔یہاں تک کہا ہے کہ مسیح موعود کے نزول کے وقت ہر ایک شخص اٹھ کھڑا ہوگا اور منبر پر چڑھ کر کہے گا : اِنَّ هَذَا الرَّجُلَ غَيَّرَ دِيْنَنَا۔اس شخص نے ہمارے دین کو بدل دیا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت اس امر کا ہوگا کہ وہ بہت سی باتوں کو رڈ کر دیگا جیسا کہ اس کا منصب اس کو اجازت دے گا۔“ ( ملفوظات جدید ایڈیشن جلد سوم صفحہ 21 حکم اور حاکم میں فرق حکم اور حاکم میں یہ فرق ہے کہ حکم کا فیصلہ ناطق ہوتا ہے۔اس کے بعد کوئی اپیل نہیں مگر مجر دلفظ حاکم اس مضمون پر حاوی نہیں۔“ (روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 111 حاشیہ تحفہ گولڑویہ )