اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 157 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 157

اسماء المهدی صفحہ 157 وو یہ بات آپ کو معلوم ہوگی کہ ہر ایک نبی اور رسول اور خدا تعالیٰ کا فرستادہ جولوگوں کی اصلاح کے لئے آتا ہے۔اگر چہ اس کی اطاعت کرنے کے لئے عقل کی رو سے اس قدر کافی ہے کہ جو کچھ وہ کہتا ہے وہ حق حق ہو اس میں کسی قسم کا دھوکا اور فریب کی بات نہ ہو۔کیونکہ عقلِ سلیم حق کے قبول کرنے کے لئے کسی معجزہ کی ضرورت نہیں سمجھتی لیکن چونکہ انسانی فطرت میں ایک قوت واہمہ بھی ہے کہ باوجود اس بات کے کہ ایک امر فی الواقعہ صحیح اور سچا اور حق ہو پھر بھی انسان کو وہم اٹھتا ہے کہ شاید بیان کرنے ا والے کی کوئی خاص غرض نہ ہو۔یا اس نے دھوکا نہ کھایا ہو۔یا دھوکا نہ دیا ہو۔اور کبھی بوجہ اس کے معمولی انسان ہونے کے اس کی بات کی طرف توجہ بھی نہیں ہوتی اور اس کو حقیر اور ذلیل سمجھا جاتا ہے اور کبھی شہوات نفس امارہ کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ گو سمجھ بھی آجاوے کہ جو فرمایا گیا ہے وہ سب سچ ہے۔تا ہم نفس اپنے ناپاک جذبات کا ایسا مغلوب ہوتا ہے کہ وہ اس راہ پر چل ہی نہیں سکتا جس پر واعظ ناصح چلانا چاہتا ہے۔اور یا فطرتی کمزوری قدم اٹھانے سے روک دیتی ہے۔پس اس لئے حکمت الہیہ نے تقاضا فرمایا کہ جو لوگ اس کی طرف سے مخصوص ہو کر آتے ہیں ان کے ساتھ کچھ نصرت الہی کے نشان بھی ہوں جو کبھی رحمت کے رنگ میں اور