اسماء المہدی علیہ السلام — Page 142
اسماء المهدی صفحه 142 الله وو نبی ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ ہو کہ رسول کریم ﷺ ہی وہ رسولاً‘ ہیں جن “ کی نبوت ورسالت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت شامل ہے۔تو پھر ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ محمد ﷺ نے جو کام کئے، وہی کام مسیح موعود کے بھی سپرد ہیں اور جو کام صحابہ نے کئے وہی کام ,, جماعت احمدیہ کے ذمہ ہیں۔“ مشعل راه جلد اول صفحہ 202-201 ، جدید ایڈیشن) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے بھیجا ہے کہ اپنی زندگیوں میں اسلامی تعلیم کا کامل نمونہ پیش کر کے تو ڑ دواس تہذیب و تمدن کی عمارت کو جو اس وقت دنیا میں اسلام کے خلاف کھڑی ہے۔ٹکڑے ٹکڑے کر دو اس قلعہ کو جو شیطان نے اس دنیا میں بنایا ہے۔اسے زمین کے ساتھ لگا دو بلکہ اس کی بنیادیں تک اکھیڑ کر پھینک دو۔اور صلى الله اس کی جگہ وہ عمارت کھڑی کرو جس کا نقشہ محمد رسول اللہ علی نے دنیا کو دیا ہے۔یہ کام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔اور اس کام کی اہمیت بیان کرنے کے لئے کسی لمبی چوڑی تقریر کی ضرورت نہیں۔ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کے جس گوشہ میں ہم جائیں، دنیا کی جس گلی میں سے ہم گزریں، دنیا کے جس گاؤں میں ہم اپنا قدم رکھیں وہاں ہمیں جو کچھ اسلام کے خلاف نظر آتا ہے،اپنے نیک نمونہ سے اسے مٹا کر اس کی جگہ ایک ایسی عمارت بنانا، جو قرآن کریم کے بتائے ہوئے نقشہ کے