اسماء المہدی علیہ السلام — Page 140
اسماء المهدی صفحہ 140 الله اور بیٹے کا فرض ہوتا ہے کہ اس کا ہر حکم مانے۔بیٹا یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب تم اپنے باپ کی طرف منہ کر کے کھڑے تھے تو اس وقت تمہاری حیثیت جب بیٹے کی تھی نہ کہ باپ کی تو اب تمہاری حیثیت باپ کی کس طرح ہوسکتی ہے۔کیونکہ اب اس کا منہ اپنے باپ کی طرف نہیں بلکہ اپنے بیٹے کی طرف ہوگا۔یہی حیثیت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی عطا فرمائی ہے۔وہ امتی بھی ہیں اور نبی بھی۔وہ نبی ہیں ہم لوگوں کی نسبت سے اور وہ امتی ہیں محمد ﷺ کی نسبت سے عیسی نبی تھے موسیٰ کی طرف منہ کر کے بھی ،صرف اپنی امت کی طرف منہ کر کے ہی نبی نہیں تھے۔اسی طرح داؤد نبی تھے موسی کی طرف منہ کر کے بھی۔صرف اپنی امت کی طرف منہ کر کے نبی نہیں تھے۔اسی طرح سلیمان ، زکریا اور کینی نبی تھے موسیٰ کی طرف منہ کر کے بھی۔یہی نہیں کہ صرف اپنی امت کی طرف منہ کر کے نبی ہوں اور موسیٰ کی طرف منہ کر کے امتی۔مگر رسول صلى الله کریم ع کے ذریعہ یہ عجیب نبوت جاری ہوئی کہ ایک ہی نبی جب صلى الله ہماری طرف مخاطب ہوتا ہے تو وہ نبی ہوتا ہے اور جب محمد ع مخاطب ہوتا ہے تو وہ امتی بن جاتا ہے۔اور وہ کسی ایسے کام کا دعویدار نہیں ہو سکتا جو محمد ﷺ نے نہیں کیا بلکہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ اسی کا م کو عليا صلى الله چلائے جس کام کو محمد ﷺ نے چلایا کیونکہ وہ فرماتا ہے وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ - اللہ تعالیٰ اسے آخرین میں بھی مبعوث کرے گا صلى الله جو بھی پیدا نہیں ہوئے۔گویا محمد ﷺ کی دوبارہ بعثت ہوگی۔اور یہ ظاہر علوم