اسماء المہدی علیہ السلام — Page 139
اسماء المهدی امتی اور نبی دو مختلف دو حیثیتوں سے صفحہ 139 سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ امتی نبی کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں بارہا اپنے متعلق یہ ذکر فرمایا ہے کہ میں انتی نبی ہوں۔یعنی محمد اللہ کے نقطہ نگاہ سے میں انتی ہوں۔مگر تم لوگوں کے نقطۂ نگاہ سے میں نبی ہوں۔جہاں میرے اور تمہارے تعلق کا سوال آئے گا وہاں تمہیں میری حیثیت وہی تسلیم کرنی پڑے گی جو ایک نبی کی ہوتی ہے۔جس طرح نبی پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے اسی طرح مجھ پر ایمان لانا ضروری ہوگا۔جس طرح نبی کے احکام کی اتباع فرض ہوتی ہے۔اسی طرح میرے احکام کی اتباع تم پر فرض ہوگی۔مگر جب میں محمد ﷺ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوں گا تو اس وقت میری حیثیت ایک امتی کی ہوگی۔اور محمد ﷺ کا ہر فرمان میرے لئے واجب التعمیل ہو گا۔اور آپ کی رضا اور خوشنودی کا حصول میرے لئے ضروری ہوگا۔گویا جس طرح ایک ہی وقت میں دادا اور باپ اور پوتا اکٹھے ہوں تو جو حالت ان کی ہوتی ہے وہی محمد ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہے۔ایک باپ جب اپنے باپ کی طرف منہ کرتا ہے تو وہ باپ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ بیٹے کی حیثیت رکھتا ہے۔لیکن وہی باپ جب اپنے بیٹے کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی حیثیت باپ کی ہو جاتی ہے الله