اسماء المہدی علیہ السلام — Page 138
اسماء المهدی صفحہ 138 اتارنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اگر امتی کو بذریعہ انوار محمدی کمالات نبوت مل سکتے ہیں تو اس صورت میں کسی کو آسمان سے اتارنا اصل حقدار کا حق ضائع کرنا ہے۔اور کون مانع ہے جو کسی امتی کو فیض پہنچایا جائے تا نمونہ فیض محمدی کسی پر مشتبہ نہ رہے کیونکہ نبی کو نبی بنا نا کیا معنی رکھتا ہے۔مثلاً ایک شخص سونا بنانے کا دعویٰ رکھتا ہے اور سونے پر ہی ایک بوٹی ڈال کر کہتا ہے کہ لوسونا ہو گیا تو اس سے کیا یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ وہ کیمیاگر ہے؟ سو آنحضرت ﷺ کے فیوض کا کمال تو اس میں تھا کہ امتی کو وہ درجہ ورزش اتباع سے پیدا ہو جائے۔ورنہ ایک نبی کو جو پہلے ہی نبی قرار پاچکا ہے امتی قرار دینا اور پھر یہ تصور کر لینا کہ جو اس کو مرتبہ نبوت حاصل ہے وہ بوجہ امتی ہونے کے ہے، نہ خود بخود یہ کس قدر دروغ بیفروغ ہے۔بلکہ یہ دونوں حقیقتیں متناقض ہیں۔کیونکہ حضرت مسیح کی حقیقت نبوت یہ ہے کہ وہ براہ راست بغیر اتباع آنحضرت ﷺ کے ان کو حاصل ہے۔ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں کہ امتی ہونے کے بجز اس کے اور کوئی معنی نہیں کہ تمام کمال اپنا اتباع کے ذریعہ سے رکھتا ہو۔جیسا کہ قرآن شریف میں جابجا اس کی تصریح موجود ہے۔اور جبکہ ایک امتی کے لئے یہ دروازہ کھلا ہے کہ اپنے نبی متبوع سے یہ فیض حاصل کرے تو پھر ایک بناوٹ کی راہ اختیار کرنا اور اجتماع نقیضین جائز رکھنا کس قد رحمق ہے۔اور وہ شخص کیونکر اقتی کہلا سکتا ہے جس کو کوئی کمال بذریعہ اتباع حاصل نہیں۔“ (روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 216-215- ریویو مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی)