اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 88 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 88

اسماء المهدی صفحه 88 دوسرا امر کونی ہوتا ہے۔اور یہ احکام اور امر قضا و قدر کے رنگ میں ہوتے ہیں۔جیسے قُلْنَا يَا نَارُ كُوْنِيْ بَرْداً وَ سَلَاماً۔اور وہ پورے طور پر وقوع میں آگیا۔اور یہ امر جو میرے اس الہام میں ہے یہ بھی اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مسلمانانِ روئے زمین علی دِینِ وَاحد جمع ہوں اور وہ ہو کر رہیں گے۔ہاں اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں کوئی کسی قسم کا بھی اختلاف نہ رہے۔اختلاف بھی رہے گا مگر وہ ایسا ہو گا جو قابل ذکر اور قابل لحاظ نہیں“۔( تذکر طبع چہارم صفحہ 490 - حاشیہ) حضرت مسیح پاک علیہ لصلوۃ والسلام اپنی تصنیف ” اعجاز احمدی“ میں ابن رسول اللہ ہونے کی حقیقت اپنے منظوم کلام میں یوں بیان فرماتے ہیں: ؎ وَ إِني وَرِثْتُ المَالَ مالَ مُحَمّدٍ وَ مَا أَنَا إِلَّا اله المُتَخَيّر وَ كَيْفَ وَرِثْتُ وَلَسْتُ مِنْ أَبْنَائِه فَفَكَّرْ وَهَلْ فِي حِزْبِكُم مُتَفَكِّرُ أَتَزْعُمُ أَنّ رَسُولَنَا سَيِّدُ الْوَرَى عَلى زَعْمِ شَانِه تُوفِيَ اَبْتَرُ فَلَا وَالَّذِي خَلَقَ السَّمَاء لأجله لهُ هُ مِثْلُنَا وُلد إِلَى يَوْمِ يُحْشَرُ ( اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 183-182)