اسماء المہدی علیہ السلام — Page 52
اسماء المهدی صفحه 52 ہمکلام ہو کر مجھے یہ بتلایا کہ وہ نبی جس نے قرآن پیش کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا وہ سچا نبی ہے اور وہی ہے جس کے قدموں کے نیچے نجات ہے۔اور بجز اس کی متابعت کے ہرگز ہرگز کسی کوکوئی نو ر حاصل نہیں ہوگا۔اور جب میرے خدا نے اس نبی کی وقعت اور قدر اور عظمت میرے پر ظاہر کی تو میں کانپ اٹھا اور میرے بدن پر لرز و پڑ گیا۔کیونکہ جیسا کہ حضرت عیسی مسیح کی تعریف میں لوگ حد سے بڑھ گئے یہاں تک کہ ان کو خدا بنادیا اسی طرح اس مقدس نبی کا لوگوں نے قدر شناخت نہیں کیا جیسا کہ حق شناخت کرنے کا تھا اور جیسا کہ چاہئے لوگوں کو اب تک اس کی عظمتیں معلوم نہیں۔وہی ایک نبی ہے جس نے تو حید کا تم ایسے طور پر بویا جو آج تک ضائع نہیں ہوا۔وہی ایک نبی ہے جو ایسے وقت میں آیا جب تمام دنیا بگڑ گئی تھی۔اور ایسے وقت میں گیا جب ایک سمندر کی طرح توحید کو دنیا میں پھیلا گیا۔اور وہی ایک نبی ہے جس کے لئے ہر ایک زمانہ میں خدا اپنی غیرت دکھلاتا رہا ہے۔اور اس کی تصدیق اور تائید کے لئے ہزارہا معجزات ظاہر کرتا رہا۔اسی طرح اس زمانہ میں بھی اس پاک نبی کی بہت تو ہین کی گئی اس لئے خدا کی غیرت نے جوش مارا اور سب گزشتہ زمانوں سے زیادہ جوش مارا اور مجھے اس نے مسیح موعود کر کے بھیجا تا کہ میں اس کی نبوت کے لئے تمام دنیا میں گواہی دوں۔“ (روحانی خزائن جلد 22 ، صفحہ 619-618۔تتمہ حقیقۃ الوحی ) حضور علیہ السلام اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: