اسماء المہدی علیہ السلام — Page 453
اسماء المهدی صفحہ 453 بمنزلہ موسیٰ کے ہے۔اور ان کی باتوں پر صبر کر۔حضرت موسیٰ بردباری اور حلم میں بنی اسرائیل کے تمام نبیوں سے سبقت لے گئے تھے اور بنی اسرائیل میں نہ مسیح اور نہ کوئی دوسرا نبی ایسا نہیں ہوا جو حضرت موسیٰ کے مرتبہ عالیہ تک پہنچ سکے۔”ہاں جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبیاء کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ سے ہزارہ درجہ بڑھ " صلى الله کر ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء علی تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے۔چونکہ امت محمدیہ کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں اس لئے الہام متذکرہ بالا میں اس عاجز کی تشبیہ حضرت موسیٰ سے دی گئی۔اور یہ تمام برکات حضرت سید الرسل کے ہیں جو خداوند کریم اس کی عاجز امت کو اپنے کمال لطف اور احسان سے ایسے ایسے مخاطبات شریفہ سے یاد فرماتا ہے۔“ روحانی خزائن جلد 1 ، صفحہ 605 تا 607، حاشیہ نمبر 3) حضور علیہ السلام اپنا ایک رؤیا بیان فرماتے ہیں :- میں مصر کے دریائے نیل پر کھڑا ہوں۔اور میرے ساتھ بہت سے بنی اسرائیل ہیں۔اور میں اپنے آپ کو موسیٰ سمجھتا ہوں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھاگے چلے آتے ہیں۔نظر اٹھا کر پیچھے دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرعون ایک لشکر کثیر کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہے۔اور اس کے