اسماء المہدی علیہ السلام — Page 311
صفحه 311 اسماء المهدی وه علی 7 دسمبر 1892ء کو ایک اور رویا دیکھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہ بن گیا ہوں۔یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں۔اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک مخی شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کر لیتا ہے۔سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضیٰ ہوں اور ایسی صورت واقعہ ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے۔یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔تب میں نے دیکھا کہ صد الله رسول الله علي رے پاس ہیں۔اور شفقت اور تو ڈر سے مجھے فرماتے ہیں يَا عَلِيُّ دَعْهُمْ وَ أَنْصَارَهُمْ وَزِرَاعَتَهُمْ۔یعنی اے علی ! ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے۔اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت علی مجھ کو فرماتے ہیں۔اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو ہی حق پر ہے۔مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے۔اور کھیتی سے مراد مولویوں کے پیرؤوں کی وہ جماعت ہے جو ان کی تعلیموں سے اثر پذیر ہے جس کی وہ ایک مدت سے آبپاشی کرتے چلے آئے ہیں۔“ (روحانی خزائن جلد 5، صفحہ 219-218 حاشیہ۔آئینہ کمالات اسلام )