اسماء المہدی علیہ السلام — Page 307
اسماء المهدی صفحہ 307 عدل احادیث نبویہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نام عدل بھی بیان ہوا ہے۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آپ کو اس حدیث نبوی کا مصداق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "يَايُّهَا النَّاسُ التَّقى التّقى، النُّهَى النَّهَى، وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ فَيْجِ أَعْوَجَ وَاذْكُرُوا مَا قَالَ المُصْطَفَى لَقَدْ جِئْتُكُمْ حَكَمًا عَدْلًا لِلْقَضَايَا وَجَبَ فَصْلُهَا فَاقْبَلُوا شَهَادَتِي إِنِّي أُوْتِيْتُ عِلْمًا مَالَمْ تُؤْتَوْهُ وَمَا يُؤْتَى“۔(روحانی خزائن جلد پنجم صفحہ 381 آئینہ کمالات اسلام) ترجمہ: اے لوگو تقوی اختیار کرو ، تقویٰ اختیار کرو۔عقل سے کام لو، عقل سے کام لو۔اور فیج اعوج کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔اور جو کچھ ( حضرت محمد ) مصطفیٰ (ع) نے فرمایا ہے اسے یاد کرو۔میں تمہارے پاس اُن امور کے لئے جن کا فیصلہ کرنا ضروری تھا، حکم عدل بن کر آیا ہوں پس میری گواہی کو قبول کرو۔مجھے وہ علم دیا گیا ہے جو تمہیں نہیں دیا گیا اور نہ ہی (کسی کو) دیا جانا ہے۔