اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 287 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 287

اسماء المهدی صفحہ 287 ہیں۔ایک مسیح اور ایک مہدی۔۔۔در حقیقت بدر قائم مقام ہے عیسی کا اور طارق قائم مقام ہے مہدی کا۔عیسوی مقام پر کھڑے ہونے والے جس قدر لوگ آئے ہیں وہ صرف آخری ہی نہیں تھے بلکہ مسبوق شرعی نبی کے خاتم بھی تھے۔ان کے آنے پر وہ سلسلہ ختم ہو گیا اور ایک نیا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری کیا گیا۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آنے والے کا نام مسیح بھی رکھا اور مہدی بھی رکھا۔نبی بھی رکھا اور امتی بھی رکھا۔نبی کے لحاظ سے وہ بدر ہے اور امتی کے لحاظ سے وہ طارق ہے۔پس قرآن کریم نے آنے والے کے دو نام رکھے ہیں۔ایک اِتِّسَاقِ قمر یا يَوْمِ مَوْعُود اور ایک طارق جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ پھر نور محمد دمی کو دنیا میں روشن کر دے گا۔گویا وہ اسلام کی ترقی اور انوار محمد سمی کے ظہور کی خبر دینے والا ہوگا جس طرح آسمانی نظام میں دونوں باتیں ہوتی ہیں، چاند بھی ہوتا ہے اور تاریک راتیں بھی ہوتی ہیں، اسی طرح وہ بدر بھی ہوگا اور طارق بھی۔گویا ایک نام ایک جہت سے ختم کرنے کے معنی دیتا ہے اور دوسرا نام دوسری جہت سے اجراء کے معنے دیتا ہے۔اور بتاتا ہے کہ مسیح موعود کی بعثت جہاں نور محمدمی کو بالواسطہ پھیلائے گی وہاں رسول کریم ﷺ کی شریعت کو بھی دنیا میں قائم کر دے گی۔پس آپ کا بدر نام ہے اس وقت کا جب تک کہ اسلام کو غلبہ حاصل نہیں ہوتا اور صرف روحانی فیوض ظاہر کئے جاتے ہیں جن میں مسیح موعود کا وجود دبطور واسطہ اور آئینہ کے ہے۔اور طارق نام ہے اس وقت کا جب اسلام کو غلبہ۔