اسماء المہدی علیہ السلام — Page 261
صفحہ 261 اسماء المهدی شاہدے صلى الله سورۃ ہود آیت 18 میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی صداقت کے تین دلائل دیئے ہیں۔اول آپ کا اپنا وجود، پاکیزہ زندگی اور آپ کے ذریعہ نشانات کا ظاہر ہونا۔دوم یہ کہ آپ کو ایک شاہد دیا جائے گا جو آپ کے بعد آئے گا۔تیسرے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب۔جس میں آنحضرت ﷺ کے متعلق پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں۔اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو جس شاہد کا وعدہ دیا گیا ہے وہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔خود آپ کو بھی ایک الہام میں شاہد کہا گیا ہے بلکہ شَاهِدُ نِزَاعٍ“ ( تذکر طبع چہارم - صفحه 43) کہا گیا ہے یعنی ایسا گواہ جو تباہی ڈالنے والا ہے۔یعنی اگر اس کی گواہی کو، جو حق و صداقت پر مشتمل ہوگی ، رڈ کیا گیا تو اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا غضب بھڑ کے گا اور وہ منکر قسم قسم کے عذابوں کا شکار ہوں گے۔چنانچہ آپ اپنے منظوم کلام میں قسم ایک جگہ فرماتے ہیں: ؎ کیوں غضب بھڑ کا خدا کا مجھ سے پوچھو غافلو ہو گئے ہیں اس کا موجب میرے جھٹلانے کے دن (روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 738۔حقیقۃ الوحی )