حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ

by Other Authors

Page 2 of 20

حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ — Page 2

حضرت اسماء۔2 اُس کے کان کی بالی ٹوٹ گئی۔یہ عظیم خاتون جس نے ابو جہل کے قہر و غضب کی بالکل پرواہ نہ کی اور ہجرت کے پر خطر راز کو اپنے دل میں چھپائے رکھا۔حضرت ابو بکر صدیقی کی بڑی صاحبزادی حضرت اسماء تھیں۔یہ حضرت اسماء ہی تھیں جنہوں نے سفر ہجرت کے لئے کھانا اور دوسرے ضروری امور سرانجام دیئے اور گھر میں موجود اپنے بوڑھے دادا ابوقحافہ تک کو خبر نہ ہونے دی۔کھانے کا تھیلہ اور پانی کا مشکیزہ بند کرنے کے لئے جب گھر میں کوئی رہی نہ ملی تو حضرت اسمان نے اپنے کمر کے کپڑے کو جسے نطاق کہتے ہیں پھاڑ کر اس ناشتہ دان کا منہ باندھا۔صلى الله حضرت محمد م ہے آپ کی اس عقل مندی پر بہت خوش ہوئے اور انہیں ذات لنطاقین، یعنی دو پٹکوں والی کا محبت آمیز لقب عطا فرمایا۔حضرت اسماء کا یہ لقب تا ابد زندہ رہ کر ان کی عزت و توقیر میں اضافہ کرتا رہے گا۔حضرت اسماء بنت ابو بکر کا شمار نہایت بلند مرتبہ صحابیات میں ہوتا ہے۔حضرت اسماء ہجرت سے ستائیس برس قبل مکہ میں پیدا ہوئیں۔حضرت عبد اللہ بن ابو بکر اُن کے حقیقی بھائی اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ بہن تھیں۔قبول اسلام کے لحاظ سے بھی حضرت اسماء کو امتیازی حیثیت