حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ

by Other Authors

Page 66 of 72

حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 66

۶۶ وہ ایک ایسا غازی ہے جو دوستوں کا دوست اور دشمنوں کا قاتل ہے میں اُسے مخلوق خدا کا سچا، ہمدرد اور خیر خواہ پاتا ہوں۔میں دیکھتا ہوں اس کے آنے سے شروع آرائش پکڑ جائے گی اور اسلام رونق پر آ جائے گا۔اور ترین متین محمدی محکم اور استعار ہو جائے گا۔نہیں دیکھ رہا ہوں کہ کسری کا خزانہ اور سکندر کی دولت سب کام میں آرہی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ بعد انہاں وہ خود امام ہو جائے گا اور جہان کا دارد و ملالہ اس پر ہوگا۔میں رحم والی پڑھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ اس نامور کا یہی نام ہوگا۔اس کے آنے سے دین کو ترقی ہوگی اور دنیا کو بھی اور لوگ با اقبال ہو جائیں گے۔وہ اپنے وقت کا مہدی اور اپنے دور کا عیسی" ہو گا ہمیں اس شہوار میں دونوں باتیں دیکھ رہا ہوں۔یکی اس دنیا کہ مصر کی طرح اگر استہ) دیکھ رہا ہوں اس امام کا عدل لوگوں کی پناہ گاہ ہوگا۔میرے اس بادشاہ کے سات وزیر ہوں گے اور وہ سب کامیاب ہوں گے۔ساقی وحدت کے ہاتھ پر میں خوش گوار جام شراب دیکھ