حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 47
ام ہے نہ یہ قدیم زمانے کے کسی قلمی نسخہ میں موجود ہے اور نہ ہی کسی مطبوعہ نسخہ پر مبنی ہے۔" در وزنامه " جنگ " راولپنڈی ۲۵ دسمبر ۶۱۹۷۱ صفحه ۳) ذیل میں رسالہ ” معارف کے کچھ اقتباسات پیش خدمت ہیں :- " اس کے فرضی ہونے کی بہت سی داخلی شہادتیں خود اس قصیدہ کے اشعار میں موجود ہیں۔نہ صرف اس کا ہر شعر ہندوستانی فارسی“ میں ہے بلکہ اس میں ایسے بہت سے الفاظ موجود ہیں جو شاہ نعمت اللہ ولی کے زمانے میں ان معنوں میں استعمال نہیں کئے جاتے تھے یہاں تک کہ بعض ملک کے جو نام اس میں آئے ہیں وہ سمجھی شاہ صاحب کے زمانہ میں پائے نہ جاتے تھے۔مثلاً جاپان کا ذکر اس میں ایک سے زیادہ موقع پر آیا ہے۔حالانکہ جاپان کو جاپان سے جو موسوم کیا گیا ہے وہ مارکو پولو کے سفر چین ۱۷۹۵ء کے بعد کا واقعہ ہے ، چین میں اس جزیزه کوچی نیکو ( CHI-PEN-KUE) کہتے تھے۔اس سے ( C HIPANGAT) چپانگو ہوا۔پھر یہی لفظ انگریزی میں ( JAPAN جاپان کے تلفظ سے ادا کیا گیا۔اور " چینیوں نے بھی اس کے اس تلفظ کو قبول کر لیا دجاپان انہ ڈلیور ڈھرے، ظاہر ہے کہ نیم ۱ ویں صدی کا یہ نو مولود۔۔۔