حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 46
۴۶ نے ترجمہ کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے وضع کئے اور اگر دو میں رائج کر دیئے۔یہ قصیدہ مدت سے مشہور ہے لیکن اب اسے بہت سے اشعار کے اضافہ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔دروز نامه " امروز ۱۹ر جولائی (۶۱۹۴۸ ماہنامہ معارف دار المصنفین اعظم گڑھ کی تحقیق پاکستان کے ایک ممتاز اہل قلم جناب عبد الشکور صاحب کا بیان ہے کہ: برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے فوراً بعد جو دور ابتلاء آیا ، اس وقت یہ قصیدہ ماہنامہ " قندیل کراچی میں شائع ہوا۔جس کا عنوان تھا شکست ہندوستان “ اس پر ایک صاحب نے اس کا تماشہ ماہنامہ معارف اعظم گڑھ کو بھیجا اور " استفسار کیا کہ آیا شاہ صاحب کا اصل قصیدہ یہی ہے۔اور موجودہ قصیدے کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ " معارف" کی طرف سے اس استفسار کا جو جواب دیا گیا وہ معارف کی جلد ۶۱ ۲ شماره فرور می ۱۹۴۸ء صفحه ۱۴۵ پر شائع ہو ہے جو راقم الحروف کے پاس موجود ہے۔اس جواب کے مطابق موجودہ قصیدہ جعلی ، خود ساختہ اور فرضی ہے۔اس قصیدہ کا شاہ صاحب کے اصل قصیدہ سے کوئی تعلق نہیں