حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ

by Other Authors

Page 45 of 72

حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 45

۴۵ " پر حروف صیحیح وزن سے باہر ہیں۔مثلاً در جگہ " نیز ہم " آیا ہے۔دونوں جگہ کا ساقط ہے اور اقدام جارحانہ" سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شاہ نعمت اللہ کے عہد کی نہ بان نہیں ہو سکتی کیونکہ بھارحانہ اقدام خالص اخیاردی زبان کا لفظ ہے جسے رائج ہوئے ۳۰ - ۳۵/ برس سے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔بہر حال اس قصیدہ کی زبان قطعاً غلط ہے جسے فارسی کہتے ہوئے بھی ہمیں ہزار بار تا مل ہوتا ہے۔یہ قصیدہ مدت سے پنجاب ، سرحد، اور کشمیری مشہور ہے۔ایک زمانے میں اس میں دجال کے خروج اور امام مہدی کے ظہور کا ذکر تھا اب اس میں مہندوستان کی تی گاندھی جی کے قتل اور فرقہ وارانہ فسادات کا تذکرہ ہے۔" حبیب اللہ صاحب قرآن من اللہ سے اس نہ مانے میں امیر حبیب اللہ والی افغانستان مراد لئے جاتے تھے اب یہ کہا جارہا ہے کہ یہ شعر قائد اعظم سے تعلق رکھتا ہے۔غرض اس بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ قصیدہ شاہ نعمت اللہ کو ہستانی کی تصنیف نہیں۔اس کی زبان سرا سر غلط ہے اور اکثر مصرعے وزن سے باہر ہیں۔اور اس میں بعض ایسے الفاظ بھی آگئے جو مولانا ظفر علی خاں