حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 12
١٢ T ساتھ غوث الاعظم حضرت سید عبد القادر جیلانی " تک پہنچتا ہے " تاریخ فرشتہ میں جو ہندوستان کی قدیم اسلامی تاریخ کا ایک مستند ماخذ ہے۔حضرت کے حالات کا تذکرہ ملتا ہے اور ان کا سال وفات ۸۳۴۶۱۴۳۱ لکھا ہے (جلد ا مقالہ سوم روضہ اول صفحہ ۳۲۹ مطبوعہ کانپور نومبر ۱۶۱۸۸۴ جناب مفتی غلام سرور موترخ لاہور نے خزنة الاصفیاء ، صفحه ۱۵ مطبوعہ ۱۳۹۰ ۱۸۷۳ء میں اور علامہ شبلی نعمانی مرحوم نے شعر العجم حصہ پنجم میں ان کی یہی تاریخ وصال لکھی ہے اور کسی نے مندرجہ بالا قصیدہ ان کی طرف منسوب نہیں کیا۔۹ اگست ۱۸۸۸ء کا واقعہ ہے کہ فارسی ادب کے مشہور فاضل و - محقق پروفیسرای - جی۔براؤن (EDWARD G BROWN ) شاہ نعمت اللہ کرمانی رو کے مقبرہ کی زیارت کے لئے ماہان پہنچے جہاں انہیں مزار کے کسی مجاور سے مندرجہ بالا قصیدہ کی نقل حاصل ہوئی جس میں اصل قصیدہ کے خلاف بعض اشعار کی ترتیب اور الفاظ میں رد و بدل تھا۔مثلاً غین ری سال کی بجائے عین و را دال اور ا - ح - م - " کی بجائے میم حامیم وال“ لکھا تھا۔ایک عرصہ بعد پروفیسر براؤن نے ۱۹۲۰ء میں اپنی کتاب "تاریخ ادبیات ایران (A LITERARY HISTORY OF PERSIA میں یہ قصیدہ شاہ نعمت اللہ کہ مانی کے حالات میں درج کر دیا جس سے ہر جگہ یہ غلط فہمی پھیل گئی کہ مذکورہ قصیدہ شاہ نعمت اللہ کرمانی کا ہے۔حالانکہ