حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 11
بجری از دیوان اوشان معلوم می شود و دوران این ابیات در مهند وستان مشهور معروف است چون در ان ابیات احوال مهدی مذکو راست آن ابیات را بز یور طبع آراسته شد المرقوم ۵ محرم العام ۱۲۶۸ ه " یعنی حضرت نعمت الله ولی مصاحب باطن اور اولیائے کامل میں سے ہیں جو مہندوستان میں بہت مشہور و معروف شخصیت ہیں۔آپ کا وطن دہلی کے اطراف میں ہے۔آپ کے دیوان سے آپ کا زمانہ ۵۶۰ د معلوم ہوتا ہے۔اس دیوان میں سے ان استعار کی مہندوستان میں بہت شہرت ہے۔چونکہ ان استعار میں امام مہدی کے احوال مذکور ہیں۔اس لئے ان کو زیور طبع سے آراستہ کیا گیا ہے۔المرقوم ۲۵ محرم الحرام ۱۲۶۸ - حضرت شاہ نعمت اللہ کرمانی کی طرف غلط نسبت حضرت نعمت اللہ ولی اور آپ کا مندرجہ بالا تاریخی قصیدہ دونوں بہت مظلوم ہیں۔وجہ یہ کہ آپ کا یہ قصیدہ انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں کسی غلط فہمی یا مصلحت کی بنا پر کچھ رد و بدل کے ساتھ عمداً یا سہواً آپ کے ہم نام ایک دُوسرے بزرگ شاہ نعمت الله کرمانی کی طرف منسوب کر دیا گیا جو آپ سے قریباً دو سو سال بعد ایران میں پیدا ہوئے اور مہمنی سلطنت کے دوران جنوبی ہند میں سبھی تشریف لائے اور جو دکنی بادشاہ احمد شاہ بہمنی کے ہمعصر اور صوفی مرتاض اور شاعر بے بدل تھے اور جن کا مزار کرمان کے متصل ما بان مقام پر ہے اور مرجع خلائق ہے۔حضرت شاہ نعمت اللہ کرمانی نو کا شجرۂ شب سولہ واسطوں کے f