حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 44
۲۴۴ وغیرہ شامل ہیں۔ان کے اشعار میں بڑی حلاوت اور لورچ ہے۔زبان بڑی منجھی ہوئی اور صاف ستھری اور یہ چیز ان کے اکثر معاصر اور قریب العہد شعراء میں موجود ہے۔شاہ نعمت اللہ سے جو قصیدہ منسوب کیا گیا ہے اور جس میں ہندوستان کی تقسیم اور گاندھی جی کے قتل کے علاوہ ایک اور عالمگیر جنگ کی سبھی پیش گوئی کی گئی ہے۔اپنی زبان و بیان کے اعتبار سے ایسا نہیں کہ اُسے شاہ نعمت اللہ کو ہستانی جیسے مشہور اور مستند شاعر سے نسبت دی جاسکے۔چند شعر ملاحظہ ہوں ہے ہم شیر با برادر پسران ہم پر مادر نیز هم پدر به دختر مجرم به عاشقانه شهر عظیم باشد اعظم ترین مقتل صد کربلا چو کہ بل پر خانہ بخانہ مارہ محرم آید با تیغ با مسلمان !! سازند مسلم آن دم اقدام جارحانہ نیز ہم حبیب اللہ صاحب قرآن من الله گیرند نصرت الله شمشیر از میانه فارسی محاورہ کی جتنی غلطیاں ان اشعار میں ہیں ان سے قطع نظر بھی کر لیا جائے تو اس کا کیا علاج کہ اکثر مقامات