حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 43
۴۳ ہمنی سلطنت کے زمانے میں بیدر بھی تشریف لائے تھے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ قصیدہ بارہویں صدی کے آخر میں تصنیف ہوا اور شاہ صاحب اس کی تصنیف سے کوئی دو صوبرس کے بعد ہندوستان تشریف لائے۔کیونکہ ہمنی سلطنت اس قصیدہ کی تصنیف سے کوئی دو سو برس کے بعد قائم ہوئی ہے۔ان دونوں باتوں کو صحیح قرار دینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ شاہ نعمت اللہ کی عمر ڈھائی تین سو سال قرار دیجائے لیکن شاہ نعمت اللہ جو عام طور پر شاہ نعمت اللہ کو مستانی کے نام سے مشہور ہیں کوئی ایسے غیر معروف بزرگوار نہیں کو ان کے بارے میں اس قسم کی دور از کار قیاس آرائیاں کرنی پڑیں۔وہ پندرہویں صدی کے بزرگوار ہیں۔یعنی اُن کے قصیدے کا جو سال تصنیف بتایا گیا ہے اس میں اور ان کے زمانے میں کوئی تین سو برس کا فضل ہے شاہ نعمت اللہ اپنی نیکی اور پرہیز گاری کی وجہ ہی سے نہیں بلکہ اپنے شاعرانہ کمالات کی وجہ سے بھی بہت مشہور ہیں۔تمام الہ باب تذکرہ ان کا نام بڑی عزت سے لیتے ہیں اور ان کے کلام کی بڑی تعریف کرتے ہیں۔شاہ صاحب اوران کا شمار صوفی شعراء کے اس گروہ سے ہوتا ہے جن میں سنائی عطار ہوتوی ، رومی، عراقی ، اوحدی سلطان ابوسعید ابوالخیر