حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 21
P سارے بہندوستان پر قبضہ حاصل کر لیں گے اور سو برس تک حکومت کریں گے۔ان کی حکومت میں دنیا پر بڑا ظلم ہوگا۔ان کی تباہی کے لئے مغرب سے ایک بادشاہ آئے گا جو ان نصرانیوں کے خلاف اعلان جنگ کر سے گا۔جس میں بے شمار لوگ مارے جائیں گے اور مغرب کا یہ بادشاہ سیف جہاد کی قوت سے کامران ہوگا اور میسج کے پیرو کاروں کو شکست ہوگی اور اسلام چالیس برس کے لئے غالب آجائے گا۔پھر اصفہان سے ایک بے دین قبیلہ خروج کرے گا۔ان ظالموں کا قلع قمع کرنے کیلئے آسمان سے میسح اتریں گے اور مہدی معہود ظاہر ہوں گے اور یہ دنیا کے آخر پر ظہور میں آئے گا اور میں نے یہ قصیدہ سال ۵۷۰ میں لکھا اور مغرب کا یہ بادشاہ ۱۲۷۰ھ میں خروج کرے گا۔نعمت اللہ رموز الہی کا واقف کار تھا اور اُس کی پیش گوئیاں انسانوں پر پوری ہوں گی۔" بیسویں صدی کے شروع میں کلکتہ ریویو" کے جعلی مقیدہ کی بگڑی ہوئی شکل کا نمونہ " کلکتہ ریویو کے جعلی قصیدہ کی شکل مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی۔یہاں تک کہ بیسویں صدی کے آغانہ میں اس نے جو صورت اختیار کر لی اس کا نمونہ ہمیں شمالی ہند کے بعض اخبارات سے درج ذیل صورت میں ملتا ہے۔تشف