اشکوں کے چراغ — Page 21
21 چور دھیان کی ٹہنی ٹہنی پر رقصاں ہیں من کے مور لفظوں کے دروازے توڑ رہے ہیں گونگے دشت کے سینے میں برپا ہے تنہائی کا شور قیس نے ٹھوکر کھائی تنہائی تنہائی شعر کے گورے گال نکلا تنہائی کا تل لفظوں کے درویش کھڑے ہیں اُٹھ عزت سے مل یاد کی گت پر ناچ رہے ہیں دروازوں کے دل چیختی ہے تنہائی شہنائی تنہائی یہ کس کی تصویر کو جھک کر چوم رہے ہیں چاند نیند کی نیا ڈول رہی ہے جھوم رہے ہیں چاند پانی کے پردیس میں تنہا گھوم رہے ہیں چاند پار تنہائی یون لہرائی تنہائی کوٹھوں پر یوں سیر کو نکلی ہیں کس کی آشائیں نچلی منزل والوں سے کہہ دو اوپر مت آئیں تھک جائیں تو بھیگی آنکھوں سے تلوے سہلائیں گھورتی ہے گہرائی تنہائی تنہائی