اشکوں کے چراغ — Page 22
اله 22 روما کی دیواروں سے رہتی ہے خون کی ہے سیزر کو جب مار چکو، بولو سیزر کی ہے مصر کے مردہ خانوں میں اک ممی بول رہی ہے ہنستا تنہائی ہے سودائی 6 تنہائی وقت کی نیلی جھیل میں اُٹھا لمحوں کا طوفان انسانوں سے آن ملیں گے پھر واپس انسان صحرا کے سینے میں جاگے آس کے نخلستان دشت میں آندھی آئی تنہائی (۱۹۵۱-۵۲ء) تنہائی