اشکوں کے چراغ — Page 605
605 جب اس نے رخ سے نقاب الٹا تو رک گیا آفتاب الٹا جب آسماں نے نقاب الٹا زمیں ہوئی لا جواب الٹا وہ خلط مبحث ہوا قفس میں سوال الٹا، جواب الٹا جو گھر سے نکلا تھا ٹوکنے کو وہ ہو گیا ہم رکاب الٹا تھا اپنی کثر ناز ان کو میں ہو گیا حساب الٹا سوال تم نے کیا تھا مضطر وہ ہو گئے لاجواب الٹا