اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 604 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 604

604 ترا احسان ہے پیارے کہ مجھ کو بڑھاپے میں جواں رکھا ہوا ہے پرندے جا چکے کب کے شجر سے مگر اک آشیاں رکھا ہوا ہے یہ آدھی رات کا آنسو ہے، تم نے اسے کیوں بے زباں رکھا ہوا ہے زے قسمت اسیروں، بیکسوں کا کوئی تو ترجماں رکھا ہوا ہے مکیں تو جا چکے ہیں کب کے مضطر مگر خالی مکاں رکھا ہوا ہے