اشکوں کے چراغ — Page 595
595 دن چڑھے بیمار کو نیند آ گئی زندگی کا مرحلہ سر ہو گیا کس لئے حیران ہیں دشمن مرے معجزہ تھا بار دیگر ہو گیا اب بھی حیرت ہے کہ دل کا مرحلہ اس قدر آسان کیونکر ہو گیا جب سے مضطر کی زباں بندی ہوئی غزل کہنے کا خوگر ہو گیا وہ
by Other Authors
595 دن چڑھے بیمار کو نیند آ گئی زندگی کا مرحلہ سر ہو گیا کس لئے حیران ہیں دشمن مرے معجزہ تھا بار دیگر ہو گیا اب بھی حیرت ہے کہ دل کا مرحلہ اس قدر آسان کیونکر ہو گیا جب سے مضطر کی زباں بندی ہوئی غزل کہنے کا خوگر ہو گیا وہ