اشکوں کے چراغ — Page 542
542 آستانِ شوق کے جلوے ہیں فردوس نظر ساحل اُمید کے پھولوں کی خوشبو دل نواز شش جہت پر چھا گئے اے حسن ! پروانے ترے کر گئی سرمست ان کو تیری چشم نیم باز ہر خطا کاری سے پہلے میرے من کے چور نے وقت پر اکثر سجھائی ہے مجھے وجہ جواز تیری ستاری پہ عیبوں کو پسینے آ گئے ڈھانپ لے رحمت کی چادر میں مرے بندہ نواز ! (۱۹۴۴ء)