اشکوں کے چراغ — Page 10
10 ان سرخ ستاروں کو پلکوں میں پرولیں گے سجدوں میں سمو لیں گے ہم اے دل شوریدہ! ہم پہ جو گزرتی ہے معلوم ہے سب اس کو حالات ہمارے تو اس سے نہیں پوشیدہ پوچھیں تو دکھا دینا جو داغ میں فرقت کے یا پڑھ کے سنا دینا مکتوب دل و دیدہ ہم بھی کبھی جائیں گے دربار محبت میں ترسیده و لرزیده، غلطیده و لغزیده با ایں ہمہ دلداری، با ایں ہمہ ستاری مضطر ! وہ کہیں تم سے ہو جائیں نہ رنجیدہ