اشکوں کے چراغ — Page 511
511 خام ہوں، گمنام ہوں ، مستور ہوں تیرا کنمی ہوں، ترا مزدور ہوں دور ہے تو اور پھر بھی پاس ہے پاس ہوں میں اور پھر بھی دور ہوں آننه در آننه در۔آننه عکس کی آہٹ سے چکنا چور ہوں پوچھتا ہے اشک آدھی رات کا کون ہوں؟ کس کی نظر کا نور ہوں گالیاں کھاتا ہوں، دیتا ہوں دعا آجکل اس امر پر مامور ہوں چین سے بیٹھا ہوں اوج دار پر کیا بتاؤں کس قدر مسرور ہوں شیخ ہوں اور ہوں بھی سیدھے ہاتھ میں وار ہوں اور کس قدر بھر پور ہوں فیصلوں میں بھی ہیں میرے تذکرے اور خبر ناموں میں بھی مذکور ہوں معترض کو ہے فقط یہ اعتراض کس لیے آثار میں مسطور ہوں اس کا دعوی ہے وطن میں رہ کے بھی بے وطن ہوں اور نامنظور ہوں میں تو ہر جھوٹے پہ لعنت بھیج کر اور کچھ کہنے سے بھی معذور ہوں ہوں غلام ابن غلام ابن غلام پھر بھی کہتے ہو کہ کیوں مشہور ہوں جو کبھی منسوخ ہو سکتا نہیں عہد کا مضطر ! میں وہ منشور ہوں (۳۱/جنوری ،۱۹۹۷ء)