اشکوں کے چراغ — Page 494
494 لیا تھا قرض کچھ نادانیوں کا ادا اب پائی پائی ہو رہی ہے میں کس منہ سے بتاؤں شہر دل کی جو حالت میرے بھائی! ہو رہی ہے حکومت اور ملائے حزیں میں سنا ہے کتخدائی ہو رہی ہے بہت کچھ ہو رہی ہے بحث و تمحیص اگرچہ جگ ہنسائی ہو رہی ہے بقول ان کے بشکل قتل ناحق اسیروں کی رہائی ہو رہی ہے لہو کا رنگ پھیکا پڑ رہا ہے صورت حنائی ہو رہی ہے مگر جہاں مدفون ہیں فتنے پرانے وہیں پر اب کھدائی ہو رہی ہے کبھی مضطر سے کھل کر جنگ ہو گی ابھی تو ہاتھا پائی ہو رہی ہے