اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 459 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 459

459 بن گئی زادِ سفر بے سروسامانی بھی منزلیں مات ہوئیں جانی بھی، انجانی بھی شکل اس شوخ کی تھی ہم نے تو پہچانی بھی وہ جو اس عہد کے انکار کا تھا بانی بھی یہ الگ بات کہ ہو جاتا ہے پتھر زخمی ورنہ تیشے سے لپٹنے میں ہے آسانی بھی رہ گیا ایک شہادت کا فریضہ باقی ریت بھی روٹھ گئی، بند ہوا پانی بھی حق ادا کیسے کروں کوئے ملامت! تیرا تو نے دانائی بنا دی مری نادانی بھی ہم فقط سلطنتِ دل کے محافظ ہی نہیں ہم کو حاصل ہے درِ یار کی دربانی بھی ہیں لاکھ ناکارہ ہیں، نادان ہیں، نالائق ہم ہیں اے حسن ! تری زلف کے زندانی بھی ہو گئی مجھ سے بغل گیر صلیب فرقت آ گئی کام مرے میری تن آسانی بھی ہر کوئی ہم سے ملا اپنا سمجھ کے منتظر! سلسلہ اپنا ہے جسمانی بھی، روحانی بھی