اشکوں کے چراغ — Page 458
458 خواب چہرے پر سجائے ، دل میں تعبیریں لیے آئنہ خانے میں کون آیا ہے تصویریں لیے ریت کے سینے پر ہے لکھا ہوا کس کا کلام دم بخود بیٹھا ہے صحرا کس کی تحریریں لیے دشت کے وحشی بھی ہو جائیں گے پابند قیود کوئی تو صحرا میں بھی آئے گا زنجیریں لیے جب بھی اذنِ عام ہو گا ان کے عہدِ حسن میں ہم بھی جائیں گے سر دربار تقصیریں لیے آخر شب کھٹکھٹائے گا کوئی باب قبول التجا جائے گی اپنے ساتھ تاثیریں لیے اپنے آباء کی طرح اس عہد کے آشوب میں ہم بھی بیٹھے ہیں تری الفت کی جاگیریں لیے زندگی سوئی ہوئی ہے سایہ زیتون میں اور تم پھرتے ہو مضطر ! غم کی انجیریں لیے