اشکوں کے چراغ — Page 454
454 کیوں من و تو کی نہ تفریق مٹا دی جائے میں اگر میں ہوں تو مجھ کو بھی سزا دی جائے میں وہ لمحہ ہوں جو گزرا ہے علامت بن کر مجھ کو آواز نہ اب بہر خدا دی جائے اب تو ایمان کو بازار میں لے آئے ہو اس کی قیمت بھی لگے ہاتھوں چکا دی جائے میرا بھی حق ہے کہ دیوار پر لکھا جاؤں میری تصویر بھی سولی پہ سجا دی جائے بوجھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے لمحہ لمحہ وقت کی دھول نہ الفاظ پہ لادی جائے کتنا آساں ہے گھلے شہر میں آنا جانا کوئی دیوار تو رستے میں بنا دی جائے اپنے انجام کی تصویر بھی لیتے جائیں بھاگتے دوڑتے لمحوں کو صدا دی جائے عقل اس عہد میں ہے محو تماشا مضطر! کچھ تو اس عہد کی میعاد بڑھا دی جائے