اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 455 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 455

455 اپنے اندازے میں اوروں کا نہ اندازہ ملا عین اپنی ذات کے پرزوں کا شیرازہ ملا زندگی کی عمر بھر دلچسپیاں قائم رہیں اس سفر میں ہر قدم پر موڑ اک تازہ ملا ذات میں گم ہو گیا تو واپسی ہو گی محال وصل کے نشے میں فرقت کا بھی خمیازہ ملا مجھ کو بھی کچھ تجربہ ہے جرم بے تقصیر کا اپنے اندازے میں کچھ میرا بھی اندازہ ملا راہ چلتوں سے لڑائی پر کمر باندھے ہوئے راستے میں ہر قدم پہ ملا دو پیازہ ملا یہ گئیں ہیں ساری فصلیں آنکھ کے سیلاب میں کتنی آسانی سے اب کے گھر کا دروازہ ملا اپنے منصب کو سمجھ ، پہچان اپنے آپ کو عشق ہے تو عشق میں ایمان کا غازہ ملا دیکھتی آنکھوں مرے قاتل کو بھی روز حساب مسکراتا، اینڈتا خلقت کا آوازه ملا زندگی کا زخم بھی مضطر! نرالا پھول تھا جس قدر گہرا لگا اتنا تر و تازہ ملا