اشکوں کے چراغ — Page 418
418 عدم آباد کو جانے والا آج جاتا ہے نہ کل جاتا ہے اس کے انجام سے مایوس نہ ہو آدمی گر کے سنبھل جاتا ہے رنگ یوں بزم کا بدلا مضطر ! جیسے نظارہ بدل جاتا ہے
by Other Authors
418 عدم آباد کو جانے والا آج جاتا ہے نہ کل جاتا ہے اس کے انجام سے مایوس نہ ہو آدمی گر کے سنبھل جاتا ہے رنگ یوں بزم کا بدلا مضطر ! جیسے نظارہ بدل جاتا ہے