اشکوں کے چراغ — Page 414
414 نظر کے لمس سے دامن نہیں بچائے گا وہ آ گیا ہے تو اب لوٹ کر نہ جائے گا یہی وفا کا تقاضا مصلحت سے یہی وہ باوفا ہے مجھے خود ہی بھول جائے گا زباں پہ اس کی ، حکومت ہے ایک بچے کی جو بات اس نے سنی ہے وہی سنائے گا تمام کھڑکیاں مشرق کی سمت کھلتی ہیں کتاب کہتی ہے وہ اس طرف سے آئے گا مری نحیف نگاہی کا علم ہے اس کو وہ خوش لباس کبھی سامنے نہ آئے گا کھلیں گے پھول محبت کے اس کے آنگن میں وہ دیکھ دیکھ کے خوش ہو گا مسکرائے گا نہ جانے کیوں اسے مضطر ! یقیں نہیں آتا وہ کہہ رہا ہے مجھے پھر بھی آزمائے گا