اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 413 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 413

413 دین مانگے نہ یہ دنیا مانگے دل ناداں تجھے تنہا مانگے بات کرنے کا سلیقہ مانگے لفظ تجھ سے ترا لہجہ مانگے ہر نئی رت کا پیمبر تجھ سے سبز پتوں کا صحیفہ مانگے آئنہ مانگے تو میرا ہمزاد مجھ سے چہرہ بھی پرایا مانگے تیری آیات کا حافظ تجھ سے تیری آواز کا تحفہ مانگے بحر ظلمات کا بوڑھا غواص ایک گم گشتہ جزیرہ مانگے صاف رہنے کی ہے عادت اس کو پھول ملبوس بھی اُجلا مانگے میں کبھی گھر سے نہ باہر نکلا تو بھرے شہر کا نقشہ مانگے رات کا چور مسافر بن کر گھر کے اندر کوئی کمرہ مانگے رک گیا شہر پنہ کے باہر دشت دیوار سے رستہ مانگے میری آواز کا قاتل مجھ سے قتل کے بعد کرایہ مانگے قتل بھی میرا کرے وہ ناحق مجھ سے انعام بھی اُلٹا مانگے یہ اندھیروں کے پجاری مضطر ! تو سر چشم اُجالا مانگے