اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 375 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 375

375 رکنے کے بعد بھی میں برابر سفر میں تھا اک مستقل جنون تھا جو میرے سر میں تھا ملنے کو بے قرار تھے منزل سے راستے ہر سنگ میل معرض خوف و خطر میں تھا بیٹھے تھے لوگ راستے میں بت بنے ہوئے اک منجمد ہجوم تھا جو رہ گزر میں تھا آبادیوں کو گھور رہی تھی بھنور کی آنکھ ساحل کا احترام بھی اس کی نظر میں تھا تالے پڑے ہوئے تھے پرانے مکان میں یہ اور بات ہے کہ خدا اپنے گھر میں تھا مدت کے بعد آیا تھا وہ شوخ راہ پر لیکن ابھی چھپا ہوا گردِ سفر میں تھا ہم نے قبول کر لیا تھا اس کے عذر کو چرچا ہماری سادگی کا شہر بھر میں تھا لکھا تھا اس نے یوں تو لہو سے کتاب کو مضطر ! جو اس کا حاشیہ تھا آب زر میں تھا