اشکوں کے چراغ — Page 374
374 وہ صداقت جو نئی بھی ہے، پرانی بھی ہے اس صداقت کا کوئی تازہ حوالہ دینا ہم فقیروں کو سر دار اگر تو مل جائے اس سے بالا نہ کوئی منصب بالا دینا چاند چہرے کا کوئی آنکھ کا تارا مضطر! رات کالی ہے تو ماحول نہ کالا دینا ( ۲۴ / جون ، ۱۹۸۷ء)